Showing posts with label Health. Show all posts
Showing posts with label Health. Show all posts

Friday, July 31, 2015

شفٹوں میں کام کرنے والوں میں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، تحقیق

لندن: حالیہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ شفٹوں میں کام کرنے والے افراد میں عام لوگوں کی نسبت موٹاپے سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

disturbpersonfile
برطانیہ کے ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر انفارمیشن سینٹر کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق شفٹوں میں کام کرنے والوں میں سے 30 فیصد جلد موٹاپے کا شکار ہوجاتے ہیں جبکہ عام معمول کے مطابق کام کرنے والے لوگوں میں یہ تناسب پایا جاتا ہے، اسی طرح مختلف شفٹوں میں کام کرنے والے 40 فیصد مرد اور 45 فیصد خواتین کو کمر درد اور ذیابیطس سمیت مختلف بیماریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا تناسب مخصوص اوقات میں کام کرنے والے مردوں میں 36 فیصد اور خواتین میں 39 فیصد ہے۔
تحقیقی رپورٹ کی ڈائریکٹر راشیل کریگ کا کہنا ہے کہ عام طور پر نوجوانوں میں جلد بیمار ہونے کا تناسب کم ہوتا ہے لیکن چونکہ شفٹوں میں کام کرنے والے نوجوانوں کی خوراک اور سونے کے اوقات تبدیل ہوتے رہتے ہیں اس لئے ان میں موٹاپے سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں جو کسی بھی ملک کی اجتماعی صحت کے لئے تشویشناک بات ہے۔
·

دن میں صرف 2 وقت کا کھانا انسان کو اسمارٹ اور فٹ رکھتا ہے ، تحقیق

واشنگٹن: طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انسان دن میں 2 دفعہ کھانا کھانے کی عادت اپنے لے  تو وہ یقینی طور پر اپنا وزن کم کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

smart

امریکی تحقیقاتی ادارے کے طبی ماہرین کے مطابق انسان کو دن میں صرف 2 دفعہ ہی کھانا کھانا چاہئے کیونکہ ایسا کرنے سے انسان اپنا وزن کم کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے،  زیادہ کھانا کھانے کی عادت پر کنٹرول کرکے کو لیسٹرول، ذیابیطس اور موٹاپے جیسی بیماریوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ  ہمیں اپنے کھانے کے اوقات  کو بھی دیکھنا چاہئے اور وہ لوگ جو  رات کے کھانے میں دیر کرتے ہیں انہیں اپنی یہ عادت بھی فوری طور پر تبدیل کرلینی چاہئے کیوں کہ یہ بھی موٹاپے کی ایک وجہ بن سکتا ہے لہٰذا ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں کھانے کے اوقات کارپر بھی قابو پاکر  وزن میں کمی کرسکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق  صحت مند زندگی گزارنے کے لئے  غذاؤں کا استعمال بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے اوراس کے لئے ہمیں وہ غذائیں استعمال کرنی چاہئے جو قوت سے بھرپور ہوں اوراس کے ساتھ  کھانے کا ایک مکمل چارٹ بنانا چاہئے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ بے شک یہ ایک معمولی سی بات ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ  بہت  کم لوگ ہی ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

·

دل کا ٹوٹنا بھی موت کا باعث بن سکتا ہے

heart
·

خراب صحت کی سات علامتیں

ہم اکثر بیمار ہونے کے بعد سوچتے ہیں کہ آخر یہ بیماری کسی قسم کی علامات ظاہر کیے بغیر ہم پر حملہ آور کیسے ہوگئی جبکہ ہم تو بالکل صحت مند تھے؟ مگر یہ سوچ ٹھیک نہیں کیونکہ ایسی متعدد علامات ہوتی ہیں جنھیں ہم معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں جو کہ درحقیقت ظاہر کررہی ہوتی ہیں کہ جسم کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا، ایسی ہی چند علامات کے بارے میں جانئے جو آپ کو کسی سنگین مرض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

health care

ہونٹوں کا پھٹنا یا کریکس

ہوسکتا ہے کہ ایسا موسم کی شدت کی وجہ سے ہو، مگر ہونٹوں کا پھٹنا خاص طور پر کونوں سے درحقیقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے اندر وٹامن B12 کی کمی ہے، اس وٹامن کی کمی متعدد طبی مسائل جیسے خون کی کمی کے مرض کا سبب بھی بن سکتی ہے، اس وٹامن کی کمی سے قبل از وقت آگاہ ہوکر آپ خود کو کافی مسائل سے بچاسکتے ہیں۔

جسمانی قد یا قامت میں کمی

سننے میں ہوسکتا ہے کہ عجیب لگے مگر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارا قد گھٹنے لگتا ہے، مگر اس کی رفتار میں تیزی اس بات اشارہ ہوتی ہے کہ آپ کی ہڈیوں میں کچھ خرابی ضرور ہے، یہ وہ آسٹیوپوروسز جیسے مرض کا شکار ہورہی ہیں،ہڈیوں کے امراض کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی وقت فریکچر کا خطرہ گرنے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے، تو اس کی قبل از وقت شناخت سے ہمیں اپنی غذا تبدیل کرکے صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

زیادہ ٹھنڈ لگنا

اگر آپ کو کچھ زیادہ ہی سردی لگتی ہے تو یہ اس بات کا عندیہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو اپنے جسمانی دفاعی نظام کو بڑھانے کی ضرورت ہے یا اس کو مسائل درپیش ہیں۔ یہ علامت وٹامن سی کی کمی یا کسی وائرس کے حملے کی نشانی بھی ہوسکتی ہے جس سے آپ آگاہ نہ ہو، تو ایسی صورت میں ایک خون کے ٹیسٹ کے ذریعے خود کو مسائل سے قبل از وقت بچاسکتے ہیں اور اپنی عام صحت کو بہتر بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

پیشاب زیادہ زرد ہونا

یہ بہت اہمیت رکھتا ہے کہ آپ اپنے پیشاب کی رنگت پر توجہ دیں کیونکہ یہ ہماری عام صحت کے بارے میں آگاہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے، اگر آپ کے جسم میں پانی مناسب مقدار میں ہو تو اس کی رنگت لگ بھگ شفاف ہوتی ہے، تاہم اگر اس کی رنگت زیادہ زرد یا پیلی ہے تو یہ اس بات کی علامت ہوسکتی ہے کہ گردوں میں کوئی مسئلہ ہے اور وہاں جمع ہونے والا کچرا مناسب طریقے سے پراسیس نہیں ہورہا۔

جلد میں مسائل

اگر آپ کو بار بار جلد میں خارش یا کسی اور قسم کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ الرجی کا ردعمل ہے یا آپ کا جسم آپ کو بتانے کی کوشش کررہا ہے کہ آپ بہت زیادہ تناؤ کا شکار ہیں اور حالات کو سست کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری جلد جسم کا سب سے بڑا عضو ہوتا ہے تو اس کی بات سننا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ جسم اکثر اسے مدد کی پکار کے لیے استعمال کرتا ہے۔

معمول کی نیند سے محرومی

اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی نیند مسائل کا شکار ہے اور آپ کے بے خوابی کی شکایت ہورہی ہے تو یہ جسم اور ذہن کے تنائو کا شکار ہونے کی علامت بھی ہوسکتا ہے، جب ہم سوتے ہیں تو ہمارا جسم تنائو کا سبب بننے والے ہارمون کورٹیسول کی شرح کو کم کردیتا ہے، مگر جب ہم تنائو کا شکار ہوتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا اور بے خوابی کی شکایت پیدا ہواتی ہے، ایسا ہونے سے جسم اپنی مرمت خود کرنے سے قاصر ہواتا ہے اور متعدد امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مناسب نیند کے باوجود تھکن

اگر آپ مناسب نیند لینے کے بعد باوجود دن میں خود کو تھکن کا شکار محسوس کررہے ہیں تو یہ آپ کے تھائی رائیڈ میں مسئلے کا اشارہ بھی ہوسکتی ہے، میٹابولزم کی شرح کو کنٹرول کرنے والی اس بے نالی غدود میں خرابی کا مطلب یہ ہے کہ آپکا جسم بغیر کسی ضرورت کے بھی تمام تر توانائی ایک ساتھ استعمال کررہا ہے، یہ مسئلہ آپ کے جسم کو گرانے کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے معمول کا کام کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

·

گنے کے حیران کن طبی فوائد

برصغیر پاک و ہند میں پائی جانے والی فصل گنا نہ صرف مالی بلکہ صحت کے حوالے سے بھی نہایت نفع بخش ہے۔گنے کا رس مختلف نیوٹرنٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو ہماری عمومی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہاں ہم آپ کو گنا کے رس کے چند اہم فوائد سے روشناس کروائیں گے۔

juice

٭ گنے کا رس گلے میں خراش، دُکھاوٹ، نزلہ اور آدھے سرکے درد کے علاج کا بہترین گھریلو ٹوٹکا ہے۔

٭ گنا پٹھوں کی مضبوطی کو برقرار رکھنے کے لئے جسم کے لئے ضروری قدرتی گلوکوز کی فراہمی کا بہترین ذریعہ ہے۔

٭ بخار میں مبتلا شخص کو ڈاکٹرز خود ہدایات جاری کرتے ہیں کہ مریض کو گنے کا رس پلایا جائے۔

٭ یرقان کے مرض میں مبتلا مریضوں کے لئے گنے کا رس کسی اکسیر سے کم نہیں، کیوں کہ یہ جسم میں گلوکوز کی سطح کو مطلوبہ حد تک پہنچا کر مریض کی جلد بحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

٭ نظام انہضام کی بہتری اور قبض کا بہترین علاج گنے کے رس کا استعمال ہے۔

٭ گنا سوکروس نامی شوگر کا حامل ہوتا ہے، جو قدرتی طور پر زخموں کو بھرنے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ شوگر کی قسم قوت مدافعت کو بھی بڑھاتی ہے۔

٭ گنے کا رس دل کے امراض سے حفاظت کا بھی ذریعہ ہے، کیوں کہ یہ جسم مں کولیسٹرول کی سطح کو بڑھنے نہیں دیتا۔

٭ گنے کا رس پیشاب کی نالی میں ہونے والی جلن کا بہترین قدرتی علاج ہے۔

٭گنے میں قدرتی طور پر الکلوی نامی جزو شامل ہوتا ہے، جو انسانی جسم کو غدود اور چھاتی کے کینسر سے لڑنے کے قابل بنا دیتا ہے۔

٭ گنے کے رس میں چوں کہ کیلشیم اور فاسفورس بھی شامل ہوتا ہے، اس لئے یہ ہڈیوں کی مضبوطی میں کردار ادا کرتا ہے۔

٭ خون کی کمی کا شکار افراد گنے کا جوس ضرور پیئں کیوں کہ اس میں آئرن کی اچھی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔

٭ مختلف تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ گنا کا رس گردے اور جگر کے لئے نہایت فائدہ مند ہے، یہ قدرتی طور پر جگر اور گردے کی صفائی کرکے ان کے ان کے کام کرنے کی استعداد کو بڑھا دیتا ہے۔

٭ گنے کے رس سے بنا گڑ آئرن کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے اور گڑ کی اسی خوبی کے باعث اس کا رنگ گہرا خاکستری ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ آئرن انسانی جسم کے لئے نہایت ضروری ہے کیوں کہ اس کی موجودگی سے خون کی کمی نہیں ہوتی۔

٭ مائیکرونیوٹرنٹس انسانی جسم کی ضرورت ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے ایک انسان متعدد نفسیاتی افعال سرانجام دیتا ہے، اور گُڑ ایسے مائیکرونیوٹرنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔

·

گرتے بالوں کا روکنا اب آپ کے اپنے ہاتھوں میں

سرکے بال ہماری شخصیت کا اہم خاصہ ہیں، لیکن ناقص غذا، معاشی و معاشرتی پریشانیوں یا کسی بیماری کے باعث ان کا گرنا آج عمومی مسئلہ بن چکا ہے۔

بالوں کو گرنے سے روکنے، انہیں نرم و ملائم، بڑھانے اور خوبصورت بنانے کے لئے مارکیٹ میں طرح طرح کے شیمپو، صابن، کریمیں اور لوشن دستیاب ہیں، جو یا تو غیرمعیاری ہوتے ہیں اور اگر معیاری ہوں تو ان کی قیمت خرید عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی ہے۔

hair fall

تو اس سلسلہ میں آپ کو مزید پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ ہم آپ کو ماہرین کے مشوروں کی روشنی میں یہاں ایسے گھریلو ٹوٹکوں کے بارے میں بتائیں گے، جن کے استعمال سے آپ کے بال نہ صرف گھنے، سیاہ، چمکدار اور مضبوط ہو جائیں بلکہ آپ بال گرنے کی مصیبت سے بھی جان چھڑا لیں گے۔

پیاز کا رس:پیاز صرف آپ کی خوراک کو ہی مزے دار نہیں بناتا بلکہ بال بڑھانے کا بھی نہایت عمدہ ذریعہ ہے، کیوں کہ پیاز کے رس میں سلفر پایا جاتا ہے، جو بالوں کی پرورش کے لئے نہایت ضروری ہے۔ دو سے چار پیازوں کا رس نکال کر 15منٹ سے ایک گھنٹہ کے لئے اس سے بالوں کی مالش کریں، بعدازاں بالوں کو شیمپو اور پانی سے دھو لیں۔

آلو کا رس:پیاز کے ساتھ آلو کے رس کو ملا کر بالوں پر لگانے سے صحت مند بال جلد بڑے ہو جاتے ہیں۔ آلو کا رس نہ صرف بالوں کو بڑھاتا ہے بلکہ یہ کسی بھی وجہ سے متاثر ہونے والے بالوں کا علاج بھی ہے۔ آلو وٹامن اے، بی اور سی سے بھرپور ہوتا ہے، جو انسانی جسم کی اہم ضرورت سمجھے جاتے ہیں۔ 3 آلوؤں کے رس میں ایک انڈے کی زردی اور ایک چمچ شہد ملاکر بالوں پر لگائیں۔

انڈے کی سفیدی:انڈے میں وہ بنیادی پروٹین پایا جاتا ہے، جو بالوں کی بہترین نشوونما کے لئے لازم قرار دیا جاتا ہے۔ ایک سے دو انڈوں کی سفیدی، ایک، ایک چمچ زیتون کا تیل اور شہد ملا کر اس سے روزانہ بالوں کی مالش کریں۔

سیب کا سرکہ:سیب کا سرکہ اپنے اندر بالوں کیلئے بے شمار فوائد پنہاں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بالوں کی جڑوں یا تھیلیوں میں تحریک پیدا کرکے ان کے بڑھنے کی رفتار کو تیز کر دیتا ہے۔

میتھی:صحت مند بالوں کی نشوونما اور بڑھوتری کیلئے میتھی کا استعمال زمانہ قدیم سے دنیا کے مختلف حصوں میں کیا جارہا ہے۔ دو سے تین چمچ میتھی کو پانی میں مکس کرکے بالوں پر لگائیں۔

بادام کا تیل:بادام کے تیل میں موجود وٹامن ای، ڈی، آئرن، میگنیزیم، کیلشیم اور فیٹس بالوں کو صحت مند و چمکدار بنادیتے ہیں۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ:بالوں کو گرنے سے بچانے کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں۔ خوراک میں ایسی غذا کا استعمال کریں، جس میں اومیگاتھری فیٹی ایسڈ پایا جاتا ہو، کیوں کہ یہ باآسانی سر کی جلد تک پہنچ کر بالوں کی جڑوں کو مضبوط بناتا ہے۔ یاد رہے کہ مچھلی اور خشک میوہ جات اومیگاتھری فیٹی ایسڈ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔

زنک سے بھرپور غذائیں: جن غذاؤں میں زنک پایا جاتا ہے، ان کا استعمال بڑھا دیں کیوں کہ زنک مخصوص ہارمونز میں باقاعدگی لا کر بالوں کو گرنے سے روکتا ہے۔ پالک، مچھلی، اناج، کدو، سرسوں کا بیج، مرغی کا گوشت، پیٹھا اور خشک میوہ جات زنک کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔

پروٹین سے بھرپور غذائیں: دودھ، مسور کی دال، مچھلی، سفید گوشت، دہی، پنیر، لوبیا، انڈہ اور سویابین کے استعمال سے گرتے بال رک سکتے ہیں، کیوں کہ یہ پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں۔

آئرن سے بھرپور غذائیں: انڈے کی زردی، سرخ گوشت، پتوں والی سبزیاں، خشک میوہ جات،لوبیا، مسور کی دال اور سویابین کا استعمال یقینی بنائیں کیوںکہ ان میں آئرن پایا جاتا ہے، جو بالوں کی بہترین نشوونما کے لئے نہایت ضروری ہے۔

وٹامن اے اور سی: وٹامن اے اور سی غدودوں کی رطوبت میں اضافہ کا باعث ہیں، جو بالوں کو قدرتی طور پر مضبوط بناتی ہے۔ وٹامن اے اور سی کے حصول کے لئے آلو، گاجر، پالک، پپیتا، شملہ مرچ، سٹرابری، انناس اور مالٹے کا استعمال کریں۔

ان کے علاوہ ایلوویرا، سوسن جیسی جڑی بوٹیوں کا استعمال اور صبح کے وقت لمبے لمبے سانس لینے جیسی ورزشوں کو یقینی بنانے سے آپ کبھی بھی بالوں کے کسی مسئلہ کا شکار نہیں ہوں گے۔

·

پاؤں اور منہ کی بدبو کا دیسی علاج

بدبو منہ کی ہو یا پاؤں کی‘ آپ کے لئے کسی بھی محفل میں شرمندگی اور ارد گرد بیٹھے لوگوں کے لئے ناگواری کا باعث بنتی ہے۔

انسانی جسم پورے کا پورا بدبو پیدا نہیں کرتا بلکہ جسم کے کچھ خاص حصے ہوتے ہیں، جو ایسی صورت حال پیدا کر دیتے ہیں۔ پسینے کے باعث خصوصاً مردوں کے پیروں سے بہت زیادہ بدبو آتی ہے، کیوں کہ زیادہ تر مرد حضرات ہی بند جوتے پہنتے ہیں۔

mouth smell

ایسے لوگ تھوڑی دیر بند جوتا پہن کر اگر جرابیں اتاریں، تو آپ انہیں اپنے پاس نہیں بٹھا پائیں گے۔ اسی طرح جب بات کرنے پر آپ کے منہ سے بدبو آئے تو کوئی بھی آپ کے قریب آنا پسند نہیں کرے گا۔ منہ اور پاؤں کی بدبو اگر دوسروں میں ناگواری کا احساس پیدا کرتی ہے، تو سوچئے! جس کے پاؤں یا منہ سے بدبو آ رہی ہے، شرم کے باعث اس کا کیا حال ہوگا۔ جسم سے بدبو آنے کی کوئی مخصوص دوائی نہیں، لیکن چند احتیاطی تدابیر کو اختیار کرکے اس سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

پانی
پانی زیادہ پینے کے علاوہ اس سے غرارے بھی کریں۔ ہائیڈریشن (آبیدگی) منہ کی بو کا ایک اہم علاج ہے، کیوں کہ آپ کا جسم جب ڈی ہائیڈریٹڈ (پانی کی کمی) ہوتا ہے، تو منہ میں تھوک پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور یہی کمی منہ میں بدبو پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔

وٹامن سی
مالٹا، لیموں سمیت ترش پھل وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں اور وٹامن سی منہ کو تازہ رکھتے ہوئے اس میں بدبو پیدا نہیں ہونے دیتا۔

سیب
جب ہم سیب کو دانتوں سے کاٹتے ہیں تو تھوک پیدا ہونے کے نظام میں تحریک پیدا ہوتی ہے، جو قدرتی طور پر منہ کی صفائی کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔

دار چینی کی چائے

ماہرین کے مطابق دار چینی کی چائے منہ اور سانسوں کو مہکائے رکھتی ہے۔ لہذا دن ایک بار ضرور دار چینی والی چائے پیئں۔

foot

پودینہ
پودینہ کا استعمال منہ کی بدبو کے خاتمے کا نہایت موثر ذریعہ ہے، آپ نے اکثر مختلف ٹوتھ پیسٹ کے اشتہارات میں بھی اس کا ذکر سنا ہوگا، تو اگر آپ منہ کی بدبو سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کھانے میں پودینہ کے استعمال کو بڑھائیں۔

صفائی
پاؤں کی بدبو کے باعث ہونے والی شرمندگی سے بچنے کے لئے سب سے پہلی احتیاطی تدبیر صفائی کا خاص خیال رکھنا ہے۔ اپنے پیروں کو خشک اور صاف رکھیں، نہانے کے بعد انگلیوں کے درمیان والی جگہوں کو بھی خصوصی طور پر خشک کریں۔ ایک ہی جوتا یا جراب پورا ہفتہ مت استعمال کریں، اگر آپ کے پاس مزید جوتے یا جرابیں نہیں ہیں، تو جرابوں کو باقاعدگی سے اچھی طرح دھوئیں اور جوتوں کو کھلی فضا میں رکھیں۔

دافع بدبو پاؤڈر
پیروں کی سٹراند کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دافع بدبو پاؤڈر یا سپرے استعمال کریں اور جوتوں کو کسی بند جگہ پر مت پڑے رہنے دیں۔

کھلے جوتوں کا استعمال
اگر موسم اجازت دے تو ہمیشہ کھلے جوتے، یعنی سینڈل اور چپل وغیرہ کا زیادہ استعمال کریں۔

ان کے علاوہ لونگ، سونف اور بڑی الائچی کا استعمال بھی آپ کی سانسوں کو مہکا اور جسمانی بدبو کوختم کر سکتا ہے۔

·

بینائی سے محروم افراد ویڈیو گیمز سے لطف اندوزکیسے ہوں اس کا حل نکال لیا گیا

پیرس: بینائی سے محروم افراد ویڈیو گیمز سے لطف اندوزکیسے ہوں اس کا حل نکال لیا گیا ہے اور ویڈیو لیس تھری ڈی ویڈیو گیمز تیار کر لی گئی ہے جو نابینا افراد کو عام لوگوں کی طرح بھر پوردلچسپی فراہم کرے گی۔

gaming

فرانسیسی شہر لیون کے ڈاؤنو اسٹوڈیو میں اس گیم کو تیار کیا گیا ہے، ماہرین نے اس ویڈیو گیمز کی تیاری میں بائننورال ریکارڈنگ کی تکنیک کا استعمال کیا ہے جس کی بدولت نابینا افراد آواز کی مدد سے گیمز کھیل سکیں گے، اس تکنیک کے تحت ڈمی مائیکروفونز گیمرز کے کانوں میں لگادیا جاتا ہے جس سے اسے ہر سین کی آوازتصویر جیسا تصور پیدا کرتی ہے,گیم کو بلائنڈ لیجینڈ کا نام دیا گیا ہے اس میں بینائی سے محروم ایک بہادر شخص کوہیرو کے طور پر دکھایا گیا ہے جو جنگل سے گزر کر اپنی بیوی کو آزاد کرنے کا مشن مکمل کرتا ہے۔ اس دوران اپنے کرداروں کی حرکت کے لئے فون پر ٹچ اسکرین کا استعمال کیا گیا ہے۔

گیم کے دوران جنگل میں پودوں کی سرسراہٹ، پرندوں کی آوازیں اور بہتے دریا کے پانی کی آوازیں اس دلکشی اور خوبصورتی سے ریکارڈ کی گئی ہیں کہ گیمر پورے گیمز کے دوران خود کو ایک لمحے کے لیے بھی ماحول سے الگ نہیں کر پاتا، ہیرو کی بہن مشن کی تکمیل میں اس کی مدد کرتی ہے اور گیمر اس کی مدد سے آگے بڑھ سکتا ہے،پورے گیم کے دوران فون کی اسکرین کالی رہتی ہے۔

بائنورال تکنیک کا استعمال پہلی بار برطانیہ میں 2010 میں سومیتھن اسٹوڈیو میں کیا گیا تھا اور نابینا افراد کے لیے پاپا سینگر کے نام سے ویڈیو گیم تیار کیا گیا جس نے بے حد مقبولیت حاصل کی تھی۔

·

آئی فون 6 کا ماڈل ریلیز ہونے سے پہلے ہی منظرعام پر

نیویارک: ایپل کمپنی کا تازہ ترین ماڈل آئی فون 6 ابھی باقاعدہ طور پر تو سامنے نہیں آیا لیکن شائقین اسے دیکھنے کے لیے اتنے بے تاب ہیں کہ ایپل کی ایک فیکٹری سے تیار شدہ ماڈل خفیہ طور پر نکال کر اس کی تصاویر انٹرنیٹ پر جاری کردی گئی ہیں۔

iphone 6

کمپنی کا کہنا ہے کہ آئی فون 6 کو 9 ستمبر تک لانچ کر دیا جائے گا لیکن مکمل تیار شدہ ماڈل کی تصاویر سامنے آنے پر شائقین نے اسے باقائدہ لانچ سے پہلے ہی دیکھ لیا ہے۔ نئی سامنے آنے والی تصاویر کے مطابق کیمرے کے گرد ایک رنگ ہے جس کی مدد سے اضافی لینر بھی اس کے ساتھ لگائے جا سکتے ہیں۔

اس فون پر لگے ایپل کے لوگو کے بارے میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ سکریچ پروف ہے یعنی اس پر رگڑ کا نشان نہیں لگ سکتا۔ اس کی اسکرین کا سائز 4.7 انچ ہے اور موبائل کا وزن بھی موجودہ ماڈل سے کم ہے۔ ان تصاویر سے اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ ہئیس ماڈل کے کونے نوکدار کے بجائے گولائی میں بنائے گئے ہیں اور کیمرہ بھی سطح سے اٹھا ہوا نظر آتا ہے۔ تصاویر شائع کرنے والے ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ یہ آئی فون 6 کا مکمل اور فائنل ماڈل ہے۔

·

گنج پن کے شکار افراد کو اب مایوس ہونے کی ضرورت نہیں

نیویارک: بال ہمیشہ سے خوبصورتی کا لازمی حصہ رہے ہیں اور جولوگ جوانی میں بالوں سے محروم ہوجاتے ہیں وہ بالوں کی واپسی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں لیکن وہ اب مزید پریشان نہ ہوں کیونکہ سائنسدانوں نے بالآخر ایک ایسا جدید اورآسان فارمولہ تیار کر لیا ہے جس سے گنج پن کا شکار لوگوں کے لیے دوبارہ بال اگانے کی امیدیں روشن ہوگئی ہیں۔

hair loss

یونیورسٹی آف کولمبیا میں ہونے والی تحقیق کے مطابق عموماَ گنج پن کی وجہ ایلوپیسیا ایریاٹا کی بیماری ہے جو تیزی سے بال گرنے کا باعث بنتی ہے اور اس کا علاج انتہائی مشکل ہوتا ہے تاہم نئی ایجاد کردہ میڈیسن سے صرف 5 ماہ میں ایک بار پھر بال اگنا شروع ہوجاتے ہیں اورچہرے پر پھیلی اداسی  ایک بار پھر خوشی اعتماد میں بدل جاتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ گنج پن کا علاج کے لیے وہی فارمولا استعمال کیا گیا جو بون میرو کے علاج کےلیے استعمال کیا جاتا ہے، ابتدائی طور پر اس کے کامیاب تجربے چوہوں پر کرنے کے بعد 3 افراد پربھی کئے گئے ۔ تینوں افراد گنج پن کی بیماری کا شکار تھے اور ان کا سربالوں سے محروم  ہوچکا تھا، نئی تیار کردہ میڈیسن ’’روکسولیٹی نب ‘‘ کے 5 ماہ تک استعمال کے بعد تینوں افراد کے بال دوبارہ اگنا شروع ہوگئے۔

تحقیق کے اہم سائنسدان رافیل کلائنس کا کہنا ہے کہ ابھی صرف تجرباتی طور اس فارمولے کا استعمال کیا جارہا ہے اگر مسلسل مثبت نتائج سامنے آئے تو یہ میڈیسن لوگوں کی زندگی پر انتہائی خوشگوار اثرات مرتب کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاج کو بڑے پیمانے پر لوگوں تک پہنچانے کے لئے ابھی کافی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

·

اب آپ سوچ کے ذریعے تصویر کھینچ سکیں گے ! Mind RDR

کبھی نا کبھی آپ کے ذہن میں یہ خیال تو آیا ہوگا کہ کاش آپ جو سوچتے وہ ہوجاتا۔ آپ کی سوچ کو کسی حد تک عملی جامہ پہنانے میں سائنس کام یاب  ہوگئی ہے۔

technology

مصنوعی اعضا  سے لے کر ویڈگیمز کے کنٹرولر تک ایسی کئی ایجادات ہوچکی ہیں جو انسانی سوچ کے تابع ہیں۔ اب ماہرین نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ایسا سوفٹ ویئر تیار کرلیا ہے جس کی مدد سے آپ اپنی دماغی لہروں کے ذریعے کسی منظر کو کیمرے کی آنکھ کے ذریعے قید کرسکیں گے۔ اِدھر آپ سوچیں گے اور اُدھر کیمرا کھٹ سے تصویر کھینچ لے گا۔

technology

یہ سوفٹ ویئر گوگل کی معرکۃ الآراء عینک’’ گوگل گلاس‘‘ کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس سوفٹ ویئر کو MindRDR کا نام دیا گیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ دنیا  کا پہلا   ’ دور حرکتی ‘  ( telekinetic ) سوفٹ ویئر ہے جو’’ گوگل گلاس‘‘ پہننے والے کو محض اپنی سوچ کے ذریعے تصویر کھینچنے کے قابل بناتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسے اپنی پوری توجہ پیش منظر پر مرکوز  کرنی ہوگی اور چند ہی لمحوں میں کیمرا اس منظر کو مقیدکرلے گا جسے فوراً ہی ٹویٹر اور فیس بُک پر شیئر بھی کیا جاسکے گا۔

·

ہم کیوں بیمار ہوتے ہیں؟

کیا سبب ہے کہ ماضی میں اس قدر امراض نہیں تھے، جتنے آج ہیں۔

دراصل یہ بیسویں صدی کا تماشا ہے، ورنہ اس سے قبل بیماریاں تو ہوتی تھیں، مگر آج کل کے امراض سے مختلف تھیں، مثلاً حادثات، غذائی قلت، آفات اور جنگ میں ہلاک ہونے والے افراد۔ بیسویں صدی کی ابتدا سے قبل ہماری غذائیں زیادہ تر زمین سے حاصل ہوتی تھیں، یعنی کھیتوں سے، جو زیادہ تر سبزی جات، دالوں اور پھلوں پر مشتمل تھیں۔ اگر گوشت وغیرہ بعض اوقات پکتا تھا تو خوشی کے مواقع پر پکتا تھا۔ شہروں میں گوشت زیادہ کھایا جاتا ہے۔ زمانۂ ماضی میں مرغیاں دوڑتی پھرتی تھیں اور اپنی مرضی کی غذا کھاتی تھیں۔ آج کل شیور کی مرغیاں پنجروں میں بند اور موٹی ہوتی ہیں اور اپنی پسند کی غذا نہیں کھاتیں، بلکہ ان کو زیادہ تر ایسی غذا دی جاتی ہے، جس میں حیوانی اجزا شامل ہوتے ہیں۔

health

ماضی بعید میں چلنا پھرنا عام تھا اور دیہات کی زندگی میں نہایت زیادہ تھا، بلکہ یہ عام رواج تھا کہ ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے پیدل سفر کیا جاتا تھا۔ بیسویں صدی کی ابتدا سے قبل نہ موٹر گاڑیاں تھیں اور نہ ہوائی جہاز۔ جبکہ اب طرز زندگی ہمیشہ بیٹھے رہنے اور سوارری کے استعمال کا ہے۔ گزشتہ صدی میں تلاش روزگار کے سلسلے میں دیہات سے شہروں کی جانب بہ کثرت نقل مکانی ہوئی ہے، جس نے ہماری زندگی پر اثرات ڈالے ہیں۔ شہروں میں نقل و حرکت کے لیے ہم ذریعہ نقل و حرکت کے انتظار میں رہتے ہیں، اب سائیکل کے بجائے رکشا کے زیادہ عادی ہو گئے ہیں۔

دیہات کے طرز حیات میں باہمی ملنا جلنا عام تھا۔ شہروں کی زندگی میں تنہائی کا احساس ہے، جس کے نتیجے میں ذہنی امراض پیدا ہو رہے ہیں۔ کوئی ایسا نہیں ہے، جس سے اپنی پریشانیوں کے ضمن میں گفتگو کی جائے اور وہ دل جوئی کرے۔

آج حملۂ قلب، انجائنا، ذیابیطس قسم 2 اور بلند فشار خون (بلڈ پریشر) عام ہیں، جن کی وجہ سے ہماری حیوانوں سے حاصلہ غذا اور چلنے پھرنے کی عادات نہ ہونا ہے۔ اب یہ امراض ہر گھر کی دہلیز پر دستک دے رہے ہیں اور عام ہوتے جا رہے ہیں۔ اب ان عوارض کا مداوا کس طرح ہو سکتا ہے، اس کے لیے ’’دوڑ پیچھے کی طرف‘ اے گردش ایام تو۔‘‘

تندرستی کے لیے غذا کو زیادہ تر کھیتوں سے حاصل کرنا چاہیے۔ چلنا پھرنا ہماری اولین عادت ہونی چاہیے اور یہ طرز حیات اگر تمام اہل خانہ کا ہو تو بیماریوں کا سدباب ہوسکتا ہے اور ہم تندرست اور خوش حال ہوسکتے ہیں۔

·

بلڈ پریشر سے بچنے کے لیے دہی کھائیں، تحقیق

سڈنی: آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق کے مطابق دہی کا روزانہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کو شکست دینے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔

yogurt

گیرفتھ ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دہی میں شامل صحت بخش بیکٹیریا معدے میں جاکر صحت مند بلڈ پریشر کو مستحکم رکھنے یا بلند فشار خون کو معمول پر لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ دہی میں پائے جانے والے بیکٹیریا پرو بائیوٹیک کے استعمال کو معمول بنالیتے ہیں جس سے ہائی بلڈ پریشر کی شرح کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

تحقیقی ٹیم کی قائد ڈاکٹر جنگ سن کا کہنا ہے کہ پرو بائیوٹیک کے استعمال سے دیگر مثبت اثرات جیسے کولیسٹرول لیول میں بہتری ،بلڈگلوکوز میں کمی اور انسولین وغیرہ میں بہتری بھی ہوتی ہے۔خیال رہے کہ ہائی بلڈ پریشر سے فالج اور امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور چونکہ اس کی کوئی علامت نہیں ہوتی اس لیے اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان مفید بیکٹریا سے فائدہ اسی صورت میں ممکن ہے جب دہی کے استعمال کو 8 ہفتے سے زائد عرصہ گزر چکا ہو۔

·

چنے کھائیں اوربیماریوں کو دوربھگائیں

چنا وٹامن سے بھرپور غذا ہیں اوریہ کئی طبی فوائد رکھتا ہے جب کہ  اس میں فولاد، وٹامن بی 6، میگنیشم، پوٹاشیم اور کیلشیم کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

healthy-food

چنا وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
چنے میں ریشہ (فائبر) اور پروٹین کثیر مقدار میں ملتے ہیں، پھر اس کا گلائسیمک انڈکس بھی کم ہے۔ اسی بنا پر چنا وزن کم کرنے کے سلسلے میں بہترین غذا ہے، تحقیق کے مطابق جو خواتین وحضرات دو ماہ تک چنے کو اپنی بنیادی غذا رکھتے ہیں ان کا وزن 8 پونڈ تک کم ہوجاتا ہے۔

چنا نظام ہضم کے لئے بھی مفید۔
چنے میں ریشے کی کثیر مقدار اُسے نظام ہضم کے لیے بھی مفید بناتی ہے۔ یہ ریشہ آنتوں کے جراثیم (بیکٹریا) کو مختلف مفید تیزاب مہیا کرکے انھیں قوی بناتا ہے۔ نتیجتاً وہ آنتوں کو کمزور نہیں ہونے دیتے اور انسان قبض و دیگر تکلیف دہ بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

چنا کولیسٹرول کی مقدار کو بھی قابو میں رکھتا ہے۔
چنا اپنے مفید غذائی اجزا کی بدولت فطری انداز میں کولیسٹرول کی سطح کم کرتے ہیں، چنے میں فولیٹ اورمیگنیشم کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے اور یہ وٹامن و معدن خون کی نالیوں کو طاقتور بناتے اور انۃیں نقصان پہنچانے والے تیزاب ختم کرتے ہیں۔ نیزاس کے کھانے سے دل کا دورہ پڑنے کا امکان بھی کم ہوجاتا ہے۔

چنا گوشت کا نعم البدل ثابت ہوتا ہے۔
چنے کو گندم کی روٹی کے ساتھ کھایا جاے، تو انسان کو گوشت یا ڈیری مصنوعات جتنی پروٹین ملتی ہے۔

چنا ذیابیطس کے مریضوں کے لئے انتہائی مفید۔
چنے اور دیگر دالیں کھانے والے ذیابیطس ٹو قسم  کا شکار نہیں ہوتے کیوں کہ ان میں زیادہ ریشہ اور کم گلائسیمک انڈکس ہوتے ہیں جس کے باعث ان میں موجود کاربوہائیڈریٹ آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں، اس عمل کی وجہ سے خون میں شکر کی مقدار ایک دم اوپر نیچے نہیں ہوتی بلکہ متوازن رہتی ہے۔

چنا توانائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
چنے میں شامل فولاد، مینگنیز انسانی قوت بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہین اسی لیے چنا حاملہ خواتین اور بڑھتے ہوئے بچوں کے لیے بڑی مفید غذا ہے اور یہ انہیں مطلوبہ غذائیت فراہم کرتا ہے، چنا ہڈیوں اورسرطان جیسے موذی مرض سے بھی محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

·

بادام بھگو کر کھانے سے فوائد میں اضافہ ہوجاتا ہے

کراچی: دماغ کو طاقت بخشنے کے لیے باداموں کو رات بھر بھگونے اور صبح کھانے کا طریقہ ہمارے ہاں صدیوں سے رائج ہے۔

almond

بادام کو کھانے سے پہلے بھگونا اس لیے بہت ضروری ہے کہ اس طرح نہ صرف گری نرم ہو جاتی ہے بلکہ چھلکا بھی تر ہوجاتا ہے۔ یاد رکھیں کہ اس کے خشک چھلکے میں ایک مخصوص انزائم ہوتا ہے جس وجہ سے بادام ہضم نہیں ہوتا اور اس کے غذائی اجزاجسم میں جذب نہیں ہوتے ، دماغی صحت کے علاوہ بھی بادام کے بہت سے فوائد ہیں‘ بھگوئے ہوئے بادام ہاضمے کو درست کرتے ہیں اور جسم میں پروٹین کے انجذاب میں مدد دیتے ہیں۔ بادام میں پایا جانے والا مادہ ایلفا ٹو فیرل بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔

یہ 30 سے 70 کی عمر کے افراد کے لیے خصوصاً مفید ہے۔ اگر آپ دل کے مسائل سے بچنا چاہتے ہیں تو باداموں کا استعمال ضرور کریں کیونکہ اس میں پایا جانے والا اینٹی آکیسڈ نٹ مادہ کولیسٹرول کو کنٹرول کرتا ہے اوردل کو صحتمند رکھتا ہے۔ بادام جسم میں مضر صحت کولیسٹرول کی مقدار کم کرتا ہے اور صحت بخش کولیسٹرول کی مقدار بڑھاتا ہے۔ بادام میٹا بولک سفڈروم پر قابو پا کر موٹا پا کم کرتے ہیں اور بدن کوچست و توانا بناتے ہیں۔

·

سرخ مرچیں وزن کم کرنے میں مفید

کراچی: بہت سے افراد سرخ مرچوں سے پرہیز کرتے ہیں لیکن ماہرین نے سرخ مرچوں کے کئی فائدے بتائے ہیں جو مرچیں نہ کھانے والے افراد حاصل نہیں کرسکتے۔

red chili

ماہرین کے مطابق سرخ مرچیں وزن کم کرنے میں مفید ہیں‘ یہ کینسر سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوتی ہیں‘ ذیابیطس کے خطرے کو کم کرتی ہیں‘ نظام ہاضمہ کو تیز کرتی ہیں‘ مدافعتی نظام میں اضافہ کرتی ہیں اور مختلف دردوں کو کم کرنے میں معاون ہیں۔

·

… سانپ ڈس جائے تو

ہر کوئی جانتا ہے کہ سانپ انسان دشمن جانور ہے، جس سے بچائو بہرحال نہایت ضروری ہے، تاہم اگر یہ ڈس لے تو اس کی علامات یوں ہو سکتی ہیں۔ جسم کے کسی حصہ پر ایک یا دو بہت چھوٹے سوراخ جو شدید درد کا سبب بن رہے ہوں اور مسلسل متلی، قے اور بے ہوشی کا طاری ہونا۔

snake biting

اسباب: زہریلے سانپ عموماً دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک قسم گڑھا سانپ ہے، جس میں ٹٹریا، تامڑا اورقُطنی ناگ وغیرہ شامل ہیں۔اس سانپ کے سر پر دونوں جانب گہرے گڑھے ہوتے ہیں، اسی لئے یہ گڑھا سانپ کہلاتا ہے۔ یہ سانپ اچانک آگے بڑھ کر ڈنک مارتا ہے ، پُھرتی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اور زہر خون میں پھیل جاتا ہے۔

دوسری قسم کورل سنیک یا مارِمرجان ہے جو چھلانگ نہیں لگاتا۔ یہ اپنے دانتوں کو کچھ دیر گوشت میں پیوست رکھتے ہوئے کچھ لمحے چباتا ہے۔ اسی دوران یہ اپنا زہر اعصاب میں منتقل کر دیتا ہے۔سانپ کا ڈنک اس وقت زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے، جب اس کا زہر دل تک پہنچنے کے بعد خون اور اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔اگر بروقت اس زہر کا تدارک نہ کیا جائے تویہ مہلک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ لہذا یہاں ہم آپ کو سانپ کے ڈسنے کی صورت میں حفاظتی اقدامات کی چند تراکیب بتانے جا رہے ہیں۔

سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کی دستی چوسنے والے آلے کو زخم پر رکھا جائے تاکہ وہ زہر کو چوس کر باہر نکال دے۔ یہ عمل آدھ سے ایک گھنٹہ جاری رکھیں۔ مار مرجان نامی سانپ کے علاوہ سب سانپوں کے زہر کے تدارک کے لئے یہ طریقہ مفید ہے۔ اگر زہر کو چوس کر باہر نکالنے کا کوئی آلہ دستیاب نہ ہو تو کوئی دوسرا شخص اسے چوسے اور خون کو تھوکتا رہے لیکن خیال رہے کے خون چوسنے والے شخص کے منہ میں کوئی زخم وغیرہ نہ ہو۔ زہرکھینچنے کے لئے گرم بوتل بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

ایک اور طریقہ یہ ہے کہ پلاسٹک سرنج کو کاٹ کراس کا اگلا حصہ زخم پر لگایا جائے اور پھر زہر کو کھینچا جائے۔ اس دوران ’’ لہو روک‘‘ کا استعمال بھی کرنا چاہیے۔ایک رسی یا پٹی زور سے زخم کے دونوں طرف باندھ دی جائے تاکہ زہر پورے جسم میں نہ پھیل سکے۔اگر ڈنک کے دو سوراخوںکے درمیان چیرہ لگایا جائے تو زیادہ مقدار میں زہریلا خون چوسا جا سکتا ہے۔ زہر مار تریاق کا استعمال مفید ہے۔ وٹامن سی کی زیادہ خوراک بھی زندگی کو بچانے میں کارگر ہو سکتی ہے۔

لکڑی کا پِسا ہواکوئلہ پانی میں مکس کر کے استعمال کرنا چاہیے۔ ہر آدھے گلاس میں ایک چائے کاچمچ کوئلہ ڈال کر ہر 15 منٹ بعد متاثرہ شخص کو پلایا جائے۔ اگر کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود درد کی شدت برقرار رہے تو کیروسین آئل (مٹی کا تیل)کپڑے سے لگا کر زخم پر رکھا جائے، یہ زہر کے اثر کو کم کرتا ہے۔اس کے علاوہ زخم پر کٹا ہوا یا کچلا ہوا پیاز لگانے سے بھی درد کی شدت کم کی جا سکتی ہے، پیاز کو زخم پر لگائے رکھیں تاوقتیکہ درد ختم ہوجائے۔

·

نمک کی زیادتی کے ساتھ اس کا کم استعمال بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، تحقیق

آئرلینڈ: جس طرح نمک کی زیادتی انسانی جان کے لئے خطرناک ہے اسی طرح نمک کی کمی بھی انسان کی جان لے سکتی ہے۔
تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے افراد جو روزانہ 3 سے 6 گرام کے درمیان نمک کی مقدار استعمال کرتے ہیں ان میں دل کے امراض اور اموات کی شرح کم ہوتی ہے جبکہ 5 گرام سے زائد نمک کی مقدار استعمال کرنے والے افراد بلڈ پریشر کے مرض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ یومیہ 2 گرام سے کم یا 6 گرام سے زائد نمک استعمال کرنے والے افراد کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔
salt use
تحقیق کرنے والے پروفیسر مارٹن ڈونل نے  18 ممالک سے ایک لاکھ افراد پر ریسرچ کی جبکہ ریسرچ کرنے والوں میں عالمی سائنسدانوں نے بھی حصہ لیا۔ 4 سال تک جاری رہنے والی تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے افراد جو روزانہ سوڈیم کی 2 گرام سے کم مقداراستعمال کرتے ہیں ان میں دل کے امراض کے علاوہ بلڈ پریشر اور شرح اموات میں اضافہ ہوجاتا ہے جبکہ ماہرین نے تجویز دی ہے کہ جسم میں نمک کی مقدار کے لیول کر برابر رکھنے کے لئے پھل اور سبزیوں کا استعمال مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
·

خراٹوں کا قدرتی علاج

سوتے ہوئے خراٹے مارنا ایک عمومی مسئلہ ہے، جو آپ کو نیند کی کمی کا شکار کر دیتا ہے اور نیند کی کمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
snoring
خراٹے مارنے والے اپنیا نامی بیماری (سوتے ہوئے سانس رکنے کا عمل) کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے باعث وہ رات کو متعدد بار جاگ جاتے ہیں۔ ماہرین کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ سوتے ہوئے خراٹے مارنے والے افراد ہارٹ اٹیک کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔ یہاں ہم آپ کو خراٹوں کے قدرتی علاج کے لئے چند گھریلو ٹوٹکوں کے بارے میں آگاہ کریں گے۔
الکوحل اور نیند والی گولیوں سے بچاؤ: الکوحل یا نیند لینے والی گولیوں سے انسان گہری نیند میں چلا جاتا ہے اور گہری نیند خراٹوں کا بہت بڑا سبب ہے۔
وزن گھٹانا: زیادہ وزن خراٹوں کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے، وزن گھٹانے کیلئے خوراک کے ساتھ سب سے زیادہ توجہ ورزش پر دیں۔
سانس میں آسانی پیدا کرنے والی چیزوں کا استعمال: بازار میں ایسے بے شمار سپرے ملتے ہیں، جو سانس لینے کی صلاحیت کو بڑھا دیتے ہیں۔ اگر آپ ناک یا گلے کے کسی مسئلہ کا شکار ہیں توضرورایسی ادویات کا استعمال کریں جس میں مینتھول ( ست پودینہ) پایا جاتا ہو، کیونکہ ست پودینہ سانس کے راستوں کو کھول دیتا ہے۔
سونے کی حالت: ہر شخص اپنے طریقے سے سوتا ہے، کچھ لوگ ایک طرف تو کچھ الٹے سوتے ہیں۔ لیکن اہم چیز یہ ہے کہ جب بھی آپ خراٹے لینے لگیں تو اپنے سونے کی پوزیشن کو بدل لیں، اس سے آپ فوراً خراٹے چھوڑ دیں گے۔
ڈیری مصنوعات: رات کو ڈیری مصنوعات کا استعمال کرنے والے لوگ اکثر گلے میں بلغم پیدا ہونے جیسے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں، اور پھر یہی چیز خراٹوں کا باعث بن جاتی ہے، لہذا شام کے وقت ایسی خوراک سے پرہیز کریں۔
تمباکو نوشی کا خاتمہ: تمباکو نوشی گلے کے ٹشوز کو بھڑکا دیتی ہیں، جو بعدازاں خراٹوں کا باعث بنتے ہیں۔
نتھنوں کی صفائی: رات کو سونے سے پہلے اچھی طرح ناک صاف کریں۔
·

گلے ملنے کے طبی فوائد سائنس نے بتادیے

نیو یارک: لوگوں سے گلے ملنے سے نہ صرف ایک دوسرے کو اپنائیت کا احساس ہوتا ہے بلکہ ایسا کرنے سے بڑھاپے کی جانب سفر بھی سست ہوجاتا ہے۔
امریکا کی کیلی فورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جب ہم کسی سے گلے ملتے ہیں تو ہمارے جسم میں ایک ہارمون اکسیٹوکن خارج ہوتا ہے جو ہمارے پرانے یا عمر رسیدہ پٹھوں کو بالکل نئے عضلات کی طرح کام کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
science
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس سے عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں میں آنے والی کمزوری پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے اور ہڈیوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ محقق پروفیسر آئرینا کون بوائے کا کہنا ہے کہ اکسیٹوکن واحد ایسا ہارمون ہے جو ہماری درمیانی عمر کی زندگی پر اثرات مرتب کرتا ہے اور یہ بڑھاپے کی جانب ہمارا سفر سست کر دیتا ہے۔
·