Showing posts with label Health. Show all posts
Showing posts with label Health. Show all posts

Friday, July 31, 2015

شفٹوں میں کام کرنے والوں میں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، تحقیق

لندن: حالیہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ شفٹوں میں کام کرنے والے افراد میں عام لوگوں کی نسبت موٹاپے سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

disturbpersonfile
برطانیہ کے ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر انفارمیشن سینٹر کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق شفٹوں میں کام کرنے والوں میں سے 30 فیصد جلد موٹاپے کا شکار ہوجاتے ہیں جبکہ عام معمول کے مطابق کام کرنے والے لوگوں میں یہ تناسب پایا جاتا ہے، اسی طرح مختلف شفٹوں میں کام کرنے والے 40 فیصد مرد اور 45 فیصد خواتین کو کمر درد اور ذیابیطس سمیت مختلف بیماریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا تناسب مخصوص اوقات میں کام کرنے والے مردوں میں 36 فیصد اور خواتین میں 39 فیصد ہے۔
تحقیقی رپورٹ کی ڈائریکٹر راشیل کریگ کا کہنا ہے کہ عام طور پر نوجوانوں میں جلد بیمار ہونے کا تناسب کم ہوتا ہے لیکن چونکہ شفٹوں میں کام کرنے والے نوجوانوں کی خوراک اور سونے کے اوقات تبدیل ہوتے رہتے ہیں اس لئے ان میں موٹاپے سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں جو کسی بھی ملک کی اجتماعی صحت کے لئے تشویشناک بات ہے۔
·

دن میں صرف 2 وقت کا کھانا انسان کو اسمارٹ اور فٹ رکھتا ہے ، تحقیق

واشنگٹن: طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انسان دن میں 2 دفعہ کھانا کھانے کی عادت اپنے لے  تو وہ یقینی طور پر اپنا وزن کم کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

smart

امریکی تحقیقاتی ادارے کے طبی ماہرین کے مطابق انسان کو دن میں صرف 2 دفعہ ہی کھانا کھانا چاہئے کیونکہ ایسا کرنے سے انسان اپنا وزن کم کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے،  زیادہ کھانا کھانے کی عادت پر کنٹرول کرکے کو لیسٹرول، ذیابیطس اور موٹاپے جیسی بیماریوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ  ہمیں اپنے کھانے کے اوقات  کو بھی دیکھنا چاہئے اور وہ لوگ جو  رات کے کھانے میں دیر کرتے ہیں انہیں اپنی یہ عادت بھی فوری طور پر تبدیل کرلینی چاہئے کیوں کہ یہ بھی موٹاپے کی ایک وجہ بن سکتا ہے لہٰذا ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں کھانے کے اوقات کارپر بھی قابو پاکر  وزن میں کمی کرسکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق  صحت مند زندگی گزارنے کے لئے  غذاؤں کا استعمال بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے اوراس کے لئے ہمیں وہ غذائیں استعمال کرنی چاہئے جو قوت سے بھرپور ہوں اوراس کے ساتھ  کھانے کا ایک مکمل چارٹ بنانا چاہئے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ بے شک یہ ایک معمولی سی بات ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ  بہت  کم لوگ ہی ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

·

دل کا ٹوٹنا بھی موت کا باعث بن سکتا ہے

heart
·

خراب صحت کی سات علامتیں

ہم اکثر بیمار ہونے کے بعد سوچتے ہیں کہ آخر یہ بیماری کسی قسم کی علامات ظاہر کیے بغیر ہم پر حملہ آور کیسے ہوگئی جبکہ ہم تو بالکل صحت مند تھے؟ مگر یہ سوچ ٹھیک نہیں کیونکہ ایسی متعدد علامات ہوتی ہیں جنھیں ہم معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں جو کہ درحقیقت ظاہر کررہی ہوتی ہیں کہ جسم کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا، ایسی ہی چند علامات کے بارے میں جانئے جو آپ کو کسی سنگین مرض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

health care

ہونٹوں کا پھٹنا یا کریکس

ہوسکتا ہے کہ ایسا موسم کی شدت کی وجہ سے ہو، مگر ہونٹوں کا پھٹنا خاص طور پر کونوں سے درحقیقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے اندر وٹامن B12 کی کمی ہے، اس وٹامن کی کمی متعدد طبی مسائل جیسے خون کی کمی کے مرض کا سبب بھی بن سکتی ہے، اس وٹامن کی کمی سے قبل از وقت آگاہ ہوکر آپ خود کو کافی مسائل سے بچاسکتے ہیں۔

جسمانی قد یا قامت میں کمی

سننے میں ہوسکتا ہے کہ عجیب لگے مگر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارا قد گھٹنے لگتا ہے، مگر اس کی رفتار میں تیزی اس بات اشارہ ہوتی ہے کہ آپ کی ہڈیوں میں کچھ خرابی ضرور ہے، یہ وہ آسٹیوپوروسز جیسے مرض کا شکار ہورہی ہیں،ہڈیوں کے امراض کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی وقت فریکچر کا خطرہ گرنے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے، تو اس کی قبل از وقت شناخت سے ہمیں اپنی غذا تبدیل کرکے صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

زیادہ ٹھنڈ لگنا

اگر آپ کو کچھ زیادہ ہی سردی لگتی ہے تو یہ اس بات کا عندیہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو اپنے جسمانی دفاعی نظام کو بڑھانے کی ضرورت ہے یا اس کو مسائل درپیش ہیں۔ یہ علامت وٹامن سی کی کمی یا کسی وائرس کے حملے کی نشانی بھی ہوسکتی ہے جس سے آپ آگاہ نہ ہو، تو ایسی صورت میں ایک خون کے ٹیسٹ کے ذریعے خود کو مسائل سے قبل از وقت بچاسکتے ہیں اور اپنی عام صحت کو بہتر بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

پیشاب زیادہ زرد ہونا

یہ بہت اہمیت رکھتا ہے کہ آپ اپنے پیشاب کی رنگت پر توجہ دیں کیونکہ یہ ہماری عام صحت کے بارے میں آگاہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے، اگر آپ کے جسم میں پانی مناسب مقدار میں ہو تو اس کی رنگت لگ بھگ شفاف ہوتی ہے، تاہم اگر اس کی رنگت زیادہ زرد یا پیلی ہے تو یہ اس بات کی علامت ہوسکتی ہے کہ گردوں میں کوئی مسئلہ ہے اور وہاں جمع ہونے والا کچرا مناسب طریقے سے پراسیس نہیں ہورہا۔

جلد میں مسائل

اگر آپ کو بار بار جلد میں خارش یا کسی اور قسم کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ الرجی کا ردعمل ہے یا آپ کا جسم آپ کو بتانے کی کوشش کررہا ہے کہ آپ بہت زیادہ تناؤ کا شکار ہیں اور حالات کو سست کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری جلد جسم کا سب سے بڑا عضو ہوتا ہے تو اس کی بات سننا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ جسم اکثر اسے مدد کی پکار کے لیے استعمال کرتا ہے۔

معمول کی نیند سے محرومی

اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی نیند مسائل کا شکار ہے اور آپ کے بے خوابی کی شکایت ہورہی ہے تو یہ جسم اور ذہن کے تنائو کا شکار ہونے کی علامت بھی ہوسکتا ہے، جب ہم سوتے ہیں تو ہمارا جسم تنائو کا سبب بننے والے ہارمون کورٹیسول کی شرح کو کم کردیتا ہے، مگر جب ہم تنائو کا شکار ہوتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا اور بے خوابی کی شکایت پیدا ہواتی ہے، ایسا ہونے سے جسم اپنی مرمت خود کرنے سے قاصر ہواتا ہے اور متعدد امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مناسب نیند کے باوجود تھکن

اگر آپ مناسب نیند لینے کے بعد باوجود دن میں خود کو تھکن کا شکار محسوس کررہے ہیں تو یہ آپ کے تھائی رائیڈ میں مسئلے کا اشارہ بھی ہوسکتی ہے، میٹابولزم کی شرح کو کنٹرول کرنے والی اس بے نالی غدود میں خرابی کا مطلب یہ ہے کہ آپکا جسم بغیر کسی ضرورت کے بھی تمام تر توانائی ایک ساتھ استعمال کررہا ہے، یہ مسئلہ آپ کے جسم کو گرانے کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے معمول کا کام کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

·

گنے کے حیران کن طبی فوائد

برصغیر پاک و ہند میں پائی جانے والی فصل گنا نہ صرف مالی بلکہ صحت کے حوالے سے بھی نہایت نفع بخش ہے۔گنے کا رس مختلف نیوٹرنٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو ہماری عمومی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہاں ہم آپ کو گنا کے رس کے چند اہم فوائد سے روشناس کروائیں گے۔

juice

٭ گنے کا رس گلے میں خراش، دُکھاوٹ، نزلہ اور آدھے سرکے درد کے علاج کا بہترین گھریلو ٹوٹکا ہے۔

٭ گنا پٹھوں کی مضبوطی کو برقرار رکھنے کے لئے جسم کے لئے ضروری قدرتی گلوکوز کی فراہمی کا بہترین ذریعہ ہے۔

٭ بخار میں مبتلا شخص کو ڈاکٹرز خود ہدایات جاری کرتے ہیں کہ مریض کو گنے کا رس پلایا جائے۔

٭ یرقان کے مرض میں مبتلا مریضوں کے لئے گنے کا رس کسی اکسیر سے کم نہیں، کیوں کہ یہ جسم میں گلوکوز کی سطح کو مطلوبہ حد تک پہنچا کر مریض کی جلد بحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

٭ نظام انہضام کی بہتری اور قبض کا بہترین علاج گنے کے رس کا استعمال ہے۔

٭ گنا سوکروس نامی شوگر کا حامل ہوتا ہے، جو قدرتی طور پر زخموں کو بھرنے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ شوگر کی قسم قوت مدافعت کو بھی بڑھاتی ہے۔

٭ گنے کا رس دل کے امراض سے حفاظت کا بھی ذریعہ ہے، کیوں کہ یہ جسم مں کولیسٹرول کی سطح کو بڑھنے نہیں دیتا۔

٭ گنے کا رس پیشاب کی نالی میں ہونے والی جلن کا بہترین قدرتی علاج ہے۔

٭گنے میں قدرتی طور پر الکلوی نامی جزو شامل ہوتا ہے، جو انسانی جسم کو غدود اور چھاتی کے کینسر سے لڑنے کے قابل بنا دیتا ہے۔

٭ گنے کے رس میں چوں کہ کیلشیم اور فاسفورس بھی شامل ہوتا ہے، اس لئے یہ ہڈیوں کی مضبوطی میں کردار ادا کرتا ہے۔

٭ خون کی کمی کا شکار افراد گنے کا جوس ضرور پیئں کیوں کہ اس میں آئرن کی اچھی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔

٭ مختلف تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ گنا کا رس گردے اور جگر کے لئے نہایت فائدہ مند ہے، یہ قدرتی طور پر جگر اور گردے کی صفائی کرکے ان کے ان کے کام کرنے کی استعداد کو بڑھا دیتا ہے۔

٭ گنے کے رس سے بنا گڑ آئرن کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے اور گڑ کی اسی خوبی کے باعث اس کا رنگ گہرا خاکستری ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ آئرن انسانی جسم کے لئے نہایت ضروری ہے کیوں کہ اس کی موجودگی سے خون کی کمی نہیں ہوتی۔

٭ مائیکرونیوٹرنٹس انسانی جسم کی ضرورت ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے ایک انسان متعدد نفسیاتی افعال سرانجام دیتا ہے، اور گُڑ ایسے مائیکرونیوٹرنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔

·

گرتے بالوں کا روکنا اب آپ کے اپنے ہاتھوں میں

سرکے بال ہماری شخصیت کا اہم خاصہ ہیں، لیکن ناقص غذا، معاشی و معاشرتی پریشانیوں یا کسی بیماری کے باعث ان کا گرنا آج عمومی مسئلہ بن چکا ہے۔

بالوں کو گرنے سے روکنے، انہیں نرم و ملائم، بڑھانے اور خوبصورت بنانے کے لئے مارکیٹ میں طرح طرح کے شیمپو، صابن، کریمیں اور لوشن دستیاب ہیں، جو یا تو غیرمعیاری ہوتے ہیں اور اگر معیاری ہوں تو ان کی قیمت خرید عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی ہے۔

hair fall

تو اس سلسلہ میں آپ کو مزید پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ ہم آپ کو ماہرین کے مشوروں کی روشنی میں یہاں ایسے گھریلو ٹوٹکوں کے بارے میں بتائیں گے، جن کے استعمال سے آپ کے بال نہ صرف گھنے، سیاہ، چمکدار اور مضبوط ہو جائیں بلکہ آپ بال گرنے کی مصیبت سے بھی جان چھڑا لیں گے۔

پیاز کا رس:پیاز صرف آپ کی خوراک کو ہی مزے دار نہیں بناتا بلکہ بال بڑھانے کا بھی نہایت عمدہ ذریعہ ہے، کیوں کہ پیاز کے رس میں سلفر پایا جاتا ہے، جو بالوں کی پرورش کے لئے نہایت ضروری ہے۔ دو سے چار پیازوں کا رس نکال کر 15منٹ سے ایک گھنٹہ کے لئے اس سے بالوں کی مالش کریں، بعدازاں بالوں کو شیمپو اور پانی سے دھو لیں۔

آلو کا رس:پیاز کے ساتھ آلو کے رس کو ملا کر بالوں پر لگانے سے صحت مند بال جلد بڑے ہو جاتے ہیں۔ آلو کا رس نہ صرف بالوں کو بڑھاتا ہے بلکہ یہ کسی بھی وجہ سے متاثر ہونے والے بالوں کا علاج بھی ہے۔ آلو وٹامن اے، بی اور سی سے بھرپور ہوتا ہے، جو انسانی جسم کی اہم ضرورت سمجھے جاتے ہیں۔ 3 آلوؤں کے رس میں ایک انڈے کی زردی اور ایک چمچ شہد ملاکر بالوں پر لگائیں۔

انڈے کی سفیدی:انڈے میں وہ بنیادی پروٹین پایا جاتا ہے، جو بالوں کی بہترین نشوونما کے لئے لازم قرار دیا جاتا ہے۔ ایک سے دو انڈوں کی سفیدی، ایک، ایک چمچ زیتون کا تیل اور شہد ملا کر اس سے روزانہ بالوں کی مالش کریں۔

سیب کا سرکہ:سیب کا سرکہ اپنے اندر بالوں کیلئے بے شمار فوائد پنہاں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بالوں کی جڑوں یا تھیلیوں میں تحریک پیدا کرکے ان کے بڑھنے کی رفتار کو تیز کر دیتا ہے۔

میتھی:صحت مند بالوں کی نشوونما اور بڑھوتری کیلئے میتھی کا استعمال زمانہ قدیم سے دنیا کے مختلف حصوں میں کیا جارہا ہے۔ دو سے تین چمچ میتھی کو پانی میں مکس کرکے بالوں پر لگائیں۔

بادام کا تیل:بادام کے تیل میں موجود وٹامن ای، ڈی، آئرن، میگنیزیم، کیلشیم اور فیٹس بالوں کو صحت مند و چمکدار بنادیتے ہیں۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ:بالوں کو گرنے سے بچانے کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں۔ خوراک میں ایسی غذا کا استعمال کریں، جس میں اومیگاتھری فیٹی ایسڈ پایا جاتا ہو، کیوں کہ یہ باآسانی سر کی جلد تک پہنچ کر بالوں کی جڑوں کو مضبوط بناتا ہے۔ یاد رہے کہ مچھلی اور خشک میوہ جات اومیگاتھری فیٹی ایسڈ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔

زنک سے بھرپور غذائیں: جن غذاؤں میں زنک پایا جاتا ہے، ان کا استعمال بڑھا دیں کیوں کہ زنک مخصوص ہارمونز میں باقاعدگی لا کر بالوں کو گرنے سے روکتا ہے۔ پالک، مچھلی، اناج، کدو، سرسوں کا بیج، مرغی کا گوشت، پیٹھا اور خشک میوہ جات زنک کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔

پروٹین سے بھرپور غذائیں: دودھ، مسور کی دال، مچھلی، سفید گوشت، دہی، پنیر، لوبیا، انڈہ اور سویابین کے استعمال سے گرتے بال رک سکتے ہیں، کیوں کہ یہ پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں۔

آئرن سے بھرپور غذائیں: انڈے کی زردی، سرخ گوشت، پتوں والی سبزیاں، خشک میوہ جات،لوبیا، مسور کی دال اور سویابین کا استعمال یقینی بنائیں کیوںکہ ان میں آئرن پایا جاتا ہے، جو بالوں کی بہترین نشوونما کے لئے نہایت ضروری ہے۔

وٹامن اے اور سی: وٹامن اے اور سی غدودوں کی رطوبت میں اضافہ کا باعث ہیں، جو بالوں کو قدرتی طور پر مضبوط بناتی ہے۔ وٹامن اے اور سی کے حصول کے لئے آلو، گاجر، پالک، پپیتا، شملہ مرچ، سٹرابری، انناس اور مالٹے کا استعمال کریں۔

ان کے علاوہ ایلوویرا، سوسن جیسی جڑی بوٹیوں کا استعمال اور صبح کے وقت لمبے لمبے سانس لینے جیسی ورزشوں کو یقینی بنانے سے آپ کبھی بھی بالوں کے کسی مسئلہ کا شکار نہیں ہوں گے۔

·